14 ستمبر 2010 - 19:30

ایک دفعہ ویٹیکن میں ایک معروف مغربی مفکر نے کہا تھا کہ اب توریت اورانجیل میں کچھ بھی نہيں رہا بلکہ آسمانی تعلیمات میں سے آج دنیا میں جو کچھ بھی ہے وہ اسلام کے پاس ہے اوراسی کے پاس رہے گا ۔

امریکہ میں قرآن کریم کی توہین کا معاملہ پچھلے چند دنوں سے عالم اسلام کے سب سے اہم مسئلے میں تبدیل ہوچکا ہے؛ اگرچہ یہ توہین چند ایک جنونیوں اورانتہا پسند صہیونی عیسائیوں نے کی مگر جس منظم انداز سے یہ اس فعل کا ارتکاب کیا گیا اورامریکی پولیس وخفیہ ایجنسی کی نگرانی میں قرآن کریم کونذرآتش کیا گیا اس سے کسی کو بھی یہ شک نہيں رہ جاتا کہ اس پورے گھناؤنے کھیل کے پیچھے امریکی حکومت اورصہیونی لابی کا ہاتھ ہے۔ قرآن کریم کی بے حرمتی کے اس واقعے کے بعد پورے عالم اسلام میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی حامنہ ای نے اس مناسبت اپنے ایک اہم پیغام میں فرمایاکہ یہ اس شرمناک سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا آغاز کافر مرتد سلمان رشدی کی گھناؤنی حرکت سے ہوا اور ڈنمارک کے خبیث کارٹونسٹ کی حرکتوں اور ہالیوڈ کی سیکڑوں اسلام مخالف فلموں کی شکل میں آگے بڑھتے ہوئے اب اس نفرت انگیز منظر تک پہنچا ہے؛ ان شر پسندانہ حرکتوں کے پیچھے کیا ہے اور کون ہے؟ اس شر پسندانہ روش کا جائزہ لینے سے، جو ان برسوں میں افغانستان، عراق، فلسطین، لبنان اور پاکستان میں مذموم اقدامات کے ساتھ جاری رہی ہے، کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جا تا کہ ان کے تار تسلط پسندانہ نظام اور صیہونی تھنک ٹینک سے جڑے ہوئے ہیں ۔یہ وہی لوگ ہیں کہ گیارہ ستمبر کو ٹاوروں پر ہونے والے حملوں کے معاملے میں آزادانہ تحقیقاتی کارروائيوں کے نتیجے میں شک کی سوئی جن کی جانب گھومتی جا رہی ہے۔ اس واقعے سے اس وقت کے جرائم پیشہ امریکی صدر کو افغانستان اور عراق پر حملے کا بہانہ میسر آیا اور اس نے صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا . تازہ نفرت انگیز اقدامات کا ایک مقصد یہ ہے کہ عیسائی معاشرے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑائی عمومی سطح تک پھیل جائے۔دین مبین اسلام اوراس کے مقدسات کی شان میں توہین کوئی نئی بات نہيں ہے جیسا کہ رہبرانقلاب اسلامی نے اپنے پیغام میں فرمایا مرتد سلمان رشدی کی کفرآمیزکتاب کا واقعہ ابھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے اس کے علاوہ مختلف کارٹونوں اورفیلموں کی نمائش بھی مغربی ملکوں میں آزادی اظہار رائے کے بہانے انجام پارہی ہے یہ سب محض اس لئے ہے کہ تسلط پسند طاقتیں اورمغربی حکومتیں اسلام کی حیات بخش تعلیمات کے فروغ سے سخت خائف ہيں اسی لئے وہ منظم طریقے سے اسلامی شعائرکی توہین کے گھناؤنے اقدامات کا یا تو ارتکاب کررہی ہیں یا ان کی حمایت کررہی ہيں چنانچہ رہبرانقلاب اسلامی نے پوری امت اسلامیہ کودعوت دی ہے کہ وہ اس قسم کے گھناؤنے اقدامات اوراسلام کے خلاف ہورہی منصوبہ بند سازشوں کو روکنے کے لئے اپنی پوری توانائیوں کا استعمال کریں ۔حقیقت یہی ہے کہ مغرب اب اسلام کی پھیلتی ہوئی تعلیمات کو برداشت نہيں کرپارہا ہے کیونکہ اس کوبخوبی اندازہ ہوگیاہے کہ اسلامی تعلیمات کے پھیل جانے سے اس کا شیرازہ بکھر جائے گا اسی لئے وہ اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کے لئے اس طرح کے اوچھے اورگھناؤنے ہتھکنڈوں پراتر آیا ہے۔آج مغرب کے پاس اسلام کے منطقی استدلال کے جواب میں کہنے کوکچھ بھی نہيں ہے اس میں شک نہيں ہے کہ قرآن کریم کو عام لوگوں کے سامنے نذرآتش کرنا ایک ایسا فعل ہے جس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ بھی نہيں نکلے گا کہ امریکہ کے تئیں پوری دنیا کے مسلمانوں اوربیدار ضمیر انسانوں کی نفرتوں میں اور بھی اضافہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110